کاشت کیلئے زمین مقدار غلہ طے کر کے دینا درست ہے
سوال
ہمارے یہاں زمین فول کو دی جاتی ہے، یعنی کا شتکار سے اقرار نامہ لکھوا کر اپنی زمین پر اس کو کاشت کرنے کی اجازت دیجاتی ہے، اقرار نامہ کے ذیل میں درج کی گئی کئی صورتیں ہوتی ہیں: (۱) نقد روپیہ لے کر زمین پر کاشت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ (۲) فصل سے پہلے ہی یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ جو بھی فصل ہو گی اس میں معینہ مقدار مثلاً دس من غله زمین دار کو دیا جائے گا چاہے پیداوار اچھی ہو یا خراب ہو دونوں صورتوں میں معینه مقدار فول دار زمین دار کو دیتا ہے، یہ صورتیں جائز ہیں اگر نہیں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب
(۱) یہ صورت جائز ہے۔ (۲) یہ صورت جائز نہیں ہاں اگر اس طرح معاملہ کیا جائے کہ یہ زمین تم کو دی جاتی ہے، اس میں جو دل چاہے کاشت کرو ہم کو اس کے معاوضہ میں دس من فلاں غلہ دے دو تو جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔