الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کی زمین میں پودے لگانا

سوال

زید کی زمین پر بکر نے کوکو کے پودے لگانے کا خیال ظاہر کیا زید کو منظور نہیں تھا، اس لئے انکار کرتا رہا مگر بکر برابر اصرار کرتا رہا اور زید کی مرضی کے بغیر کوکو کے پودے لگا دیئے ہم وطن اور تعلقات کی وجہ سے زید خاموش ہو گیا، بکر کی مالی حالت کمزور تھی اس خیال سے کہ اگر میں مدد نہیں کرتا تو میری زمین خراب ہو جائے گی، بکر کو گھاس مارنے کے لئے زہر اور کھا دوغیرہ اور مزدوروں کی مزدوری دیتا رہا دوسال کے بعد پودوں نے پھل دینا شروع کیا، جن سے بکر مستفیض ہوتا رہا، دس سال کے قریب ہو رہا ہے، بکر کا یہاں پر انتقال ہو گیا ہے،…

جواب

اگر ان پودوں کو اکھاڑنے اور کاٹنے سے زمین میں نقصان زیادہ ہو تو ان پودوں کی قیمت جن کے کاٹ ڈالنے کا حکم ہے، پودا لگانے والے کے ورثاء کو دیدی جائے، پھر وہ پودے مالک زمین کے ہو جائیں گے، اس مرحوم کے ترکہ کی وارثت بھی تو کسی ہندوستان میں رہنے والے وارث کو ملی ہوگی، اسی طرح یہ قیمت بھی دیدی جائے اختلاف دارین حق مسلم میں مانع عن الارث نہیں ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو