الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مملوک مکان کو حکومت کا نیلام کرنا

سوال

مسماۃ محفوظ النساء نے اپنا مکان اپنے پوتے اور پوتی کو حصہ مساوی ۱۹۳۵ء میں ہبہ کر دیا، ہبہ نامہ رجسٹری شدہ موجود ہے لیکن (۱۹۵۱ء میں پوتا پاکستان چلا گیا، جس کی وجہ سے نصف حصہ کسٹوڈین کو ملا کسٹوڈین نے نصف حصہ کے مالک ہونے کا حکم ۱۹۵۴ء میں نافذ کر دیا لیکن ۱۹۵۹ء میں کسٹوڈین نے کل مکان نیلام کر دیا، دلی میں اپیل کی حاکم نے نیلام منسوخ کر دیا اور نا جائز قرار دیا کسٹوڈین میرٹھ نے نصف حصہ مکان ۱۹۶۱ء میں پوتی کے نام بیع کر دی، رجسٹری کرائی گئی بیع نامہ موجود ہے، ایسی صورت میں خریدار مکان منشی اعجاز حسین اس مکان کا مالک…

جواب

جس وقت کسٹوڈین نے کل مکان نیلام کر دیا اس وقت اگر منشی اعجاز حسین نے اس نیلام کو خریدا تھا پھر اپیل کرنے پر نیلام منسوخ کر دیا گیا، کیونکہ پورے مکان کو نیلام کرنا غلط تھا، ملک غیر کو بغیر اجازت مالک بیع کرنے سے بیع فضولی ہو کر اجازت مالک پر یہ بیع موقوف رہتی ہے تو اب منشی اعجاز حسین اس مکان کا نیلام خریدنے سے مالک نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو