نیلام میں آپس میں قیمت ایک میعاد پر طے کر لینا
سوال
چند ساتھی جو نیلام کا کاروبار کرتے ہیں وہ آپس میں یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس مال کو جو کہ مثلاً دس ہزار روپے کی مالیت کا ہے، جمع سات ہزار روپے میں خرید لیں اس طرح کہ کوئی شخص جمع یا سات ہزار روپے سے زائد کی بولی نہیں بولے گا، اس طرح مالک سمجھ کر یہ مال اتنی ہی مالیت کا ہے، بولی ختم کر دیتا ہے۔ (ب)
جواب
(الف) جمع یا سات ہزار روپے سے بولی زائد نہ بولنا اور زائد پر نہ خریدنا تو درست ہے لیکن دھوکہ دینے کی نیت سے یہ سازش کرنا درست نہیں ہے خریدنے کے بعد طریقہ مذکورہ پر بولی بولنا یا زائد قیمت پر کسی ایک کا خرید لینا جب کہ وہ خریدنے والا اور دیگر شرکا ء سب ہی اس میں شریک تھے درست نہیں، کہ اس صورت میں خود ہی بائع ہے خود ہی مشتری، البتہ جس کو خریدنا ہے وہ اپنا حصہ برقرار رکھنے کے بعد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔