الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کی زمین اپنے نام کرالینا

سوال

(۱) ایک صاحب ہیں جن کا نام تھا رسول احمد ان کے چار لڑکے تھے، اصغر حسین، سکندرحسین، روشن حسین اور امجد حسین، رسول احمد کی جملہ جائیداد ان چاروں بھائیوں میں تقسیم ہوئی، اور اب تک چلی آرہی ہے، نیز اب بھی جملہ وارثین قابض ہیں لیکن ۴۷عہ کے بعد سکندرحسین کے صاحبزادے نے دس گنا لگان ادا کر کے ایک مشترک زمین کو کسی طرح پوشیدہ طور پر اپنے نام کرالیا، جب ظاہر ہوا تو ان کے شرکت داروں نے لوگوں کو جمع کیا لوگوں نے کافی لعنت کی اور معاملہ طے ہوا کہ ہم ان کے نام بیع نامہ کرادیں گے، چنانچہ بیع نامہ کرا دیا لیکن داخل خارج نہیں…

جواب

(۱) حکومت نے زمین دارہ ختم کر کے جب تمام زمینوں کو اپنی ملک قرار دے لیا تو زمین سب سرکاری ہوگئی، زمیندار مالک نہیں ہے، پھر حسین نے دس گنا داخل کر کے جو زمین اپنے نام کرالی حسب قانون وہ اس کی ہوگئی، البتہ اگر خفیہ طور طریقہ پر دوسرے کی مقبوضہ زمین کو اپنے نام کرایا تو یہ غلط اور گناہ ہوا وعدہ کر کے اس کے خلاف کرنا بھی شرعاً مذموم ہے، جب بیع نامہ کر دیا پھر داخل خارج نہ کرانا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو