الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع الوفاء حقیقی رہن ہے

سوال

(۱) زید نے اپنی کسی ضرورت کی بنا پر اپنی کاشت کی آراضی عمر کو اس شرط پر بیع کر دی کہ تین سال کی مدت معینہ کے اندر اندر جس وقت بھی میرے پاس رقم ہو جاوے، اور میں لینا چاہوں تو عمر کو یہ آراضی اسی ثمن مذکور میں واپس دینا ہوگی، اور ثمن میں کمی بیشی نہ ہوگی، اگر مدت معینہ میں زید کے پاس روپیہ فراہم نہ ہو سکا اور مدت ختم ہوگئی، تو پھر یہ آراضی عمر ہی کیلئے مستقل بیع سمجھی جائے گی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ عرف میں اس کو آڑی بیچ کہتے ہیں، آیا یہ صورت مسئولہ خیار شرط میں داخل ہے جو عند الصاحبین جائز ہے یا اس سے خارج ہے؟

جواب

(۱) بیع بالوفاء ہے رد المحتار میں اس تفصیلی بحث موجود ہے، قول المختار یہ ہے کہ یہ صورة بیع ہے، مگر حکماً رہن ہے، لہذا اس سے انتفاع درست نہیں ہے ”کل قرض جرنفعاً حرام اھ در مختار “۔ (۲) اس کا حکم بھی وہی ہے جو نمبر ۱ میں بیان ہوا ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو