کٹ قبالہ کا حکم
سوال
ہمارے یہاں کٹ قبالہ کا عام رواج ہو گیا ہے، اس کی حقیقت وہی ہے، جو بیع الوفاء کی ہے، یعنی لوگ بمجبوری روپیہ اپنی مملوکہ آراضی کا کل یا بعض کو اس شرط پر کہ مثلاً دس، گیارہ برس کی مدت میں جب واپس کر دیئے جائیں گے تو زمین واپس کر دی جائے (فروخت کرتے ہیں) اور اس وقت تک زمین سے برابر مشتری نفع اٹھاتا رہتا ہے، دریافت طلب یہ ہے کہ یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جب زمین کی بیع واپسی کی شرط پر کی جاتی ہے تو شرعاً یہ بیع نہیں بلکہ یہ رہن ہے، اس پر رہن کے احکام جاری ہوں گے، واپسی کی مدت تک جو آمدنی مشتری نے حاصل کی ہے وہ درست نہیں، بلکہ سود ہے” صورته ان يبيعه العين بالف على انه اذا رد عليه الثمن رد عليه العين (درمختار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔