بیع کرنے کے بعد دس سال کے اندر اندر واپس لینے کا اقرار نامہ لکھوانا
سوال
زید نے اپنا مکان عمر کے ہاتھ فروخت کر دیا اور دستاویز بیع قطعی کی رجسٹری کرادی، اور دستاویز کے ساتھ ہی ایک اقرار نامہ عمر سے تحریر کرالیا کہ جو روپیہ زید نے عمر سے وصول کیا ہے، اگر وہ دس سال کے بعد زید عمر کو واپس کر دے تو عمر زید کو مکان واپس کر دے گا، اور بعد گذر جانے دس سال کے زید کو عمر سے مکان واپس لینے کا کوئی حق نہ ہوگا، مرمت شکست وریخت دس سال تک عمر کے ذمہ رہے گی، ایسی صورت میں عمر کو اس مکان کا کرایہ لینا جائز ہے یا نا جائز، بیچ ہونے سے پہلے اقرارنامہ کی شرائط طے کر لی جاتی ہیں؟
جواب
اگر یہ شرطیں ایجاب و قبول بیع سے پہلے کی گئی ہیں، یا بیچ کے ساتھ کی گئی ہیں تو ان دونوں کا ایک حکم ہے اگر بیع قطعی کی گئی اور پھر شرطیں لگا دی گئیں، تب بھی امام اعظم کے نزدیک ان شرطوں کا ایسا ہی حال ہے، جیسا کہ نفس بیچ میں لگا لینے سے ہوتا ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بیع قطعی ہوگئی، اور یہ اقرار نامہ علیحدہ ہے، اس کا پورا کرنا دیانہ ضروری ہے، اگر پورا نہیں کرے گا،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔