الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بيع الوفاء

سوال

ایک مسلمان اپنی جائداد یا مکان کسی دوسرے مسلم کو فروخت کر دیتا ہے، کہ اتنے عرصہ بعد رقم ادا کر کے مذکورہ جائداد واپس خرید لوں گا، اور اگر تاریخ معینہ تک نہ خرید سکا تو اس کے بعد حق خریداری ختم اور جائداد تمہاری خریدار مذکورہ فروخت کرنے والوں کو اس کا مقررہ کرایہ وصول کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ تو رہن میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

جواب

یہ شرعاً بیع قطعی نہیں ہے، بلکہ بیع بالوفا ہے جو کہ رہن کے حکم میں ہے اس صورت میں کرایہ وصول کرنا درست نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو