الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع بالوفاء کی حقیقت

سوال

زید اپنا ذاتی مکان اپنے بھانجے بکر کو بیچنا چاہتا ہے، فی الوقت رقم فراہم نہ ہونے کے باعث بکر اپنا ایک مکان عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے کسی کو دے کر رقم لینا چاہتا ہے، تا کہ ماموں کو مکان کی رقم دے سکے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ رقم بھی حاصل ہو جائے، اور مکان بھی مستقل طور پر نہ جاسکے، اور مکان دینے اور لینے والا بھی گنہگار نہ ہوئے بعض حضرات سے معلوم ہوا کہ حالات زمانہ کے پیش نظر علماء نے بیع بالوفاء کی اجازت دی ہے، آپ مطلع فرمادیں کہ بیع بالوفاء سے کیا مراد ہے اور اس کی صورت کیا…

جواب

بیع بالوفاء کا نام اگر چہ بیع ہے، مگر وہ در حقیقت رہن ہی ہے، مرتہن کو شئی مرہون سے انتفاع نا جائز ہے، بیع بالوفاء کو سود کا حیلہ نہ بنایا جائے، مولانا عبدالحئی صاحب نے مستقل ایک رسالہ ”الفلک المشحون» تحریر فرمایا ہے، جس میں انتفاع بالمرہون کی صورتیں لکھی ہیں، ضرورت پر بیع قطعی کر دی جائے، پھر جب اللہ تعالی پیسہ دیں تو دوبارہ خرید لیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو