الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مکان خریدنے کے بعد مشتری سے واپسی کا اقرار نامہ لکھوانا

سوال

ایک مکان زید نے پانچ سو روپیہ کا خریدا اور بیعنامہ تحریری لکھے جانے کے بعد بائع نے مشتری سے یہ کہا کہ تم ایک اقرار نامہ علیحدہ اس امر کا لکھدو کہ دس سال تک اگر بائع یا اس کے ورثہ اس کو واپس لینا چاہیں گے تو میں اسی دام پر واپس کر دوں گا، تا کہ ہم دونوں کا اطمینان ہو جائے، چنانچہ فریقین رضامند ہو گئے، بیعنامہ کے علاوہ ایک اقرار نامہ مضمون بالا کا لکھوایا گیا، اب دریافت طلب یہ ہے کہ آیا مشتری کو اس مکان خرید شدہ سے منافع حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اولاً بیچ تام اور پختہ ہو چکی بعد میں ایک اقرار نامہ بائع اور مشتری کے درمیان بطور وعدہ تحریر کیا گیا ہے، جس سے بیع پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لہذا مشتری مکان کا مالک ہے، اور اس مکان سے نفع حاصل کرنا مشتری کو جائز ہے، ” وفی الخيرية: فيما لواطلق البيع ولم يذكرالوفاء الا انه عهدالى البائع انه ان اوفى مثل الثمن يفسخ البيع معه اجاب هذه المسئلة اختلف فيها مشائخنا على اقوال ونص فى…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو