بیع میعادی میں بیع سے انتفاع
سوال
زید اپنا مکان عمر کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اس کی فروختگی کے شرائط یہ ہیں (۱) جو رقم میں نے اس وقت یعنی فروخت کرنے کے وقت عمر سے لی ہے اس رقم کو اگر دس سال میں واپس دیدوں تو زید کو عمر مكان لازمی واپس دے گا، اگر زید دس سال کے اندر رقم عمر کو ادا نہ کر سکا تو بعد گذر جانے دس سال کے بیع قطعی سمجھا جاوے گا، یعنی پھر زید اپنا مکان عمر سے واپس نہیں لے سکتا۔ (۲)
جواب
یہ بیع شرعا رہن کے حکم میں ہے اور شئی مرہون سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں، لہذا مکان کی شکست وریخت کی مرمت اصل مالک یعنی زید کے ذمہ ہے اور اس دس سال کے کرایہ کا مالک بھی زید ہی ہے عمر کو یہ کرایہ تصرف میں لانا درست نہیں ” وفي حاشية الفصولين عن جواهر الفتاوى هوان يقول بعت منك على ان تبيعه منى متى جئت بالثمن فهذا البيع باطل وهورهن وحكمه حكم الرهن وهو الصحيح الشامي، ج ۴ ص ۲۷۴ ونفقة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔