الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میعادی بیع اور اس کا نفع

سوال

(۱) کریم بخش نے ایک مہاجن سے چار سو روپئے سود پر قرض لئے، اور اصل و سود کل پانچ سو روپئے ہو گئے، کریم بخش نے مہاجن سے دوسو پچاس روپئے میں اپنا حساب بیباق کرنا طے کر لیا، اور مہا جن کو دو سو پچاس روپئے دینے کے لئے اپنا مکان عمر کو تین سو روپئے میں فروخت کر دیا، اور عمر سے ایک اقرار نامہ لکھوالیا کہ وہ اس کے تین سو روپئے واپس کرنے پر مکان اس کو واپس کر دے گا، اور چھ روپے ماہوار کرائے کا ایک ٹھیکہ نامہ لکھ کر عمر کو دے دیا، سوال یہ ہے کہ بیعنامہ میعادی جائز ہے یا نا جائز؟ (۲)

جواب

(۱) بیع میں واپسی کی شرط لگانے سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، جس کا فسخ کرنا واجب ہوتا ہے، یہ در حقیقت رہن ہے، رہن سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں بلکہ یہ سود ہے لہذا یہ میعادی بیع نا جائز ہے، (۲) یہ چھ روپیہ لینا نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو