الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سونے چاندی کی بیع کی ایک صورت

سوال

(۱) ایک شخص کو سونے چاندی تیار کرانا تھا، اس نے کہا پانچ تولہ سونا تیار کرانا ہے، تم کو سونا اپنے پاس سے لگانا ہے، بھاؤ طے کر لو ہم نے بھاؤ طے کر لیا اس نے پانچ سو روپیہ ہم کو بنانے میں دیا، اس طرح بھاؤ طے کرنا اور بنا کر لینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) ایک آدمی کو ۲۰ تولہ چاندی اور ۲ تولہ سونے کا زیور بنا کر دیا حساب کرنے پر ہمارے ایک ہزار کے نوٹ گاہک کے ذمہ باقی رہے، اس نے کہا میں یہ روپیہ دو ماہ بعد دونگا، تو یہ ادھار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۳)

جواب

اس پانچ سو روپیہ کو زیور بنانے کی اجرت قرار دیدیا جائے تب بھی درست ہے، آج کل روپیہ (نوٹ) یا سکہ رائج الوقت سے چاندی سونا اگر خریدا جائے، تو یہ بیع صرف نہیں، جس میں برابری اور تقابض فی المجلس (ہاتھ درہاتھ) ہونا ضروری ہو (۲) جائز ہے (۳) جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو