نوٹ کی بیع کمی بیشی سے
سوال
بٹہ داری جائز ہے کہ نہیں یعنی کے روپیہ کے دام کسی سے لیتا ہو تو وہ روپیہ لیتا ہے، اور اس کو ساڑھے پندرہ آنے واپس کرتا ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ روپیہ اس کو لینا جائز ہے یا سود لینا ہوگا، یا نوٹ دیکر پندرہ آنے لیتا ہے، تو یہ ایک آنہ رکھ لیتا ہے، لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جب چاندی کی بیچ چاندی کے عوض کی جائے تو اس میں کمی زیادتی نا جائز ہے اگر چاندی کی بیچ چاندی کے علاوہ کسی دوسری شئی کیساتھ کی جائے، خواہ وہ سونا ہو خواہ سلور، پیتل تانبا وغیرہ کچھ ہو تو اسمیں برابری شرط نہیں، بلکہ کمی زیادتی جائز ہے، اور پیسہ اصل خلقت کے اعتبار سے ثمن نہیں بلکہ متعاقدین نے اصطلاحاً اس کو ثمن قرار دیا ہے، اور اسکا رواج ہو گیا ہے، لہذا شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔