الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روپیہ، نوٹ، ریز گاری کی بیع متفاضلاً

سوال

(۱) فی الحال جو روپیہ رائج ہیں جس میں چاندی کم اور غش غالب ہو ان کو یا نوٹ کو پہلے کے روپیہ کے عوض تفاضلا بیچنا جس میں چاندی غالب اور کھوٹ کم ہو جائز ہے یا نہیں؟ (۲) روپیہ نوٹ کی بیچ ریزگاری یا پیسوں سے تفاضلاً جائز ہے یا نہیں، نیز ہر ریز گاری کا ایک حکم ہے یا مثل گلٹ کی ریز گاری کا دوسرا حکم ہے؟ (۳) آج کل کا روپیہ اور پہلے کا روپیہ دونوں مساوی الحکم ہیں یا پہلا روپیہ نقد کے حکم میں ہے، اور فی الحال جو رائج ہے عروض کے حکم میں ہے؟

جواب

۱/۲/۳ سکوں کا ایک حکم ہے، کھوٹ کے کم و بیش کی وجہ سے قیمت کم و بیش نہیں ہوتی، اس لئے صحیح یہ ہے کہ اس کی بیع تفاضلاً جائز نہیں۔ (۱) موجودہ روپیہ کو سابقہ روپیہ کے عوض تفاضلا بیچنا شرعاً درست ہے، کیونکہ موجودہ روپیہ میں چاندی مغلوب بلکہ معدوم ہونے کی وجہ سے چاندی کے حکم میں نہیں، کہ تفاضلا بیچ کی صورت میں ربا لازم آئے اور تساوی واجب ہو بلکہ اس میں ہر طرح کی کمی بیشی درست ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو