الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع صرف کی ایک صورت

سوال

ایک آدمی دس تولہ چاندی لا کر کہتا ہے کہ اس کا زیور چاہئے، زیور سنار کے پاس تیار ہے اور وہ سنار ٹانکا کاٹ کر برابر بدل دیتا ہے، یا دونوں کی قیمت لگا کر بدل دیتا ہے، اس میں کونسی بات درست ہے؟

جواب

جب چاندی کی بیع چاندی ہی کے زیور کے بدلہ میں ہو تو برابر ہونا ضروری ہے، کمی بیشی درست نہیں ہے لیکن اگر ایک جانب میں چاندی کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہو مثلاً کچھ پیسے یا کوئی اور سکہ چونی اٹھنی وغیرہ کا ہو تو دوسری جانب میں زیادتی درست ہے، مثلاً ایک طرف دس تولہ چاندی اور آٹھ آنہ پیسے ہوں اور دوسری طرف بارہ تولہ چاندی ہو تو درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو