بیع سلم میں روپے کے عوض دھان لینے کی شرط
سوال
ایک شخص آج ایک روپیہ کا چاول مثلاً ۸ سیر ہے اور اس خریدنے والے سے یہ کہے کہ میں دو مہینے کے بعد تم سے اس روپیہ کے عوض ۳۲ رسیر دھان لونگا، اور جو شخص اس شرط پر وہ چاول لے جاتا ہے اسی کو دیا جاتا ہے، اور دوسرے کو اس بھاؤ پر نہیں مل سکتا، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
یہ بیع نا جائز ہے جواز کی صورت یہ ہے کہ چاول کا معاملہ بلا شرط مذکور کیا جائے، پھر اس کی قیمت میں جو ایک روپیہ واجب ہوگا، بہتر یہ ہے کہ وہ روپیہ ادا کر دے،اگر اپنے پاس نہ ہو تو اس بائع سے یا کسی دوسرے شخص سے قرض لے کر دیدے اس کے بعد بائع وہ روپیہ مشتری کو دے اور معاملہ سلم با قاعدہ طے کرے کہ اتنے روز بعد اس حساب سے اس روپیہ کے عوض اس قسم کے دھان مجھے دیدینا غرض سلم کی پوری…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔