سلم کی ایک صورت
سوال
(۱) ہمارے ملک میں یہ پیشہ اور رواج ہے مثلاً ماہ اپریل کو ایک سو روپیہ قرض دار کو دیدیا اور اسے ملاپ کر کے یعنی زبانی اقرار کر لیا ماہ نومبر یا دسمبر کو مکئی لوں گا وہ کہتا ہے کہ سو روپیہ میں دس من دونگا، یہ طریقہ چلتا ہے، قرض دار جس وقت سو روپیہ لیتا ہے، اس وقت مکئی کا نرخ ڈیڑھ روپیہ فی سیر ہوتا ہے، اور جس وقت مکئی قرض پر دیتا ہے، تو اس وقت عام نرخ دوسیر فی روپیہ ہوتا ہے، اور لینے والا اپنا کیا ہوا دس روپیہ من لیتا ہے، کیا یہ سود ہے؟ اور یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
سو روپیہ دینا اور طے کر لینا کہ اتنے روز بعد فلاں مہینہ میں اس روپیہ کی مکئی فلاں نرخ سے لونگا، اور فلاں جگہ لونگا اور سب باتیں اس طرح کر لی جائیں کہ پھر نزاع نہ ہو، تو پھر شرعاً یہ معاملہ درست ہے، اگر چہ عام نرخ جو کچھ بھی ہوں لیکن اگر سو روپیہ قرض دیدیا پھر کسی وقت اس سے مل کر مکئی کا معاملہ کیا تو یہ صحیح نہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔