بیع سلم میں ادھار کی وجہ سے قیمت میں اضافہ
سوال
(۱) موجودہ وقت میں جیٹھ کے ماہ میں دھان پچیس روپیہ من بازار میں فروخت ہوتا ہے، زید نے کہا کہ اگر کاتک کے مہینے میں دھان کی قیمت دو گے تو ۳۵ روپے لونگا، تو ایک من دھان کے بدلہ میں ۳۵ روپیہ لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) نقد اور اُدھار کی وجہ سے قیمت میں کمی و بیشی ہوتی ہے، یہ شرعاً سود نہیں ہے، جس قیمت پر دھان فروخت کیا ہے، وقت مقررہ پر وہی قیمت لینا درست ہے، لیکن جو شخص غریب اور قیمت ادا نہیں کر سکتا اس کے ساتھ احسان کرنا چاہئے، قیمت میں زیادہ اضافہ کرنا خلاف مروت ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔