بیع سلم کی جائز صورت
سوال
یہاں پر بعض تجار لوگ زمین داروں کو ایک من مکئی وعدہ پر دیتے ہیں، کہ فلانے مہینے میں اس کی جگہ ایک من گیہوں لیں گے، زمین دار لوگ لے لیتے ہیں، اور وعدہ کئے ہوئے پر دیتے ہیں، اور اس میں ملا لوگ بھی مختلف ہیں، بعض حرام اور بعض جائز کہتے ہیں، کہ وعدہ معلوم ہونے پر جائز ہے، اور مجہول ہونے پر نا جائز ہے، بعض کیل و وزن کی بات نکالتے ہیں، لہذا جو صحیح ہو تحریر فرمائیے؟
جواب
یہ معاملہ نا جائز ہے اگر جائز طریق پر کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ فی الحال مکئی فروخت کر دی جائے، اور اس کی قیمت وصول کر کے کاشتکار کو یا جس سے خریدنا چاہیں اس کو دے دیں، کہ اس روپیہ کے عوض ہم فلاں مہینے میں اس قسم کے اس نرخ پر گیہوں لیں گے، اور وہ اس کو منظور کرلے، پس یہ صورت شرعاً درست ہے، ”اذا بيع قفيز حنطة بقفیزی شعير يدا بيد حل الفضل فان احد جزئى العلة وهو الكيل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔