الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سلم

سوال

مثلاً آج کل منجی کا بھاؤ ۲۵ روپیہ من ہے، ہم سے زید روپیہ قرض مانگتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں فصل پر تم کو آٹھ روپیہ من منجی دیدونگا، تو اس طریقہ سے روپیہ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قرض کا اس طرح معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں ”لان الاقراض تقضى بامثالها “البتہ بیع سلم کا معاملہ کیا جاسکتا ہے، وہ یہ کہ قیمت پیشگی دی جائے، اور منجی بعد (فصل) وصول کی جائے، اس کے لئے نرخ قسم وصول کی جگہ وصولی کا وقت، غرض سب چیزیں اس طرح صاف صاف طے کر لی جائیں کہ بعد میں نزاع نہ ہو فصل پر عامۂ جو نرخ ہواس کی پابندی لازم نہیں، بلکہ وقت عقد جو نرخ تجویز کر لیا جائے، اس کی پابندی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو