بیع سلم
سوال
الف نامی کسان ہے ب نامی ساہوکار ہے، بارش میں کسان اپنی کھیتی میں ہرقسم کا بیج بوتا ہے، جب پودے پک جاتے ہیں تو اس کے دیگر کام پولائی مزائی وغیرہ کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے، کسان کے پاس پیسہ نہیں رہتا، لہذا وہ ساہوکار کے پاس جاتا ہے اور پیسہ طلب کرتا ہے، ساہوکار پیسہ دینا چاہتا ہے، مگر اس شرط پر کہ کپاس کا بھاؤ ۴۰ یا ۴۵ روپے من پر (۴۰ کلو کا من)
جواب
یہ معاملہ بیع سلم کا ہو گیا ہے اگر ہر جنس کی قسم، وزن، نرخ، وصولیابی کی جگہ اور وقت اسی طرح متعین کر لیں کہ اختلاف اور نزاع پیدا نہ ہو تو درست ہے، جو روپیہ پیشگی لیا گیا ہے، وہ اس جنس کی قیمت ہے قرض نہیں لیکن غریب ضرورت مند مستحق رحم ہوتا ہے، اس سے نرخ میں اتنی کمی کرنا مروت کے خلاف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔