متعینہ وقت پر مسلم فیہ ادانہ کرنے کی صورت میں بیع سلم کا حکم
سوال
زید نے عمر کو کچھ روپیہ دیا اس شرط پر کہ وہ زید کو فصل خریف کے موقع پر فی روپیہ چار کلو کے حساب سے دھان دیگا، اتفاق سے عمر کے پاس اتنا دھان نہیں ہوا کہ وہ زید کو دے سکے، اب زید نے عمر سے کہا میرا وہ روپیہ جو پہلے دے چکا ہوں اور آج کے حساب سے جو قیمت بچتی ہے ان سب کا آئندہ فصل کے موقع پر دھان لونگا، تو کیا متعاقدین کی مذکورہ صورت کے ساتھ بیع و شراء کرنا جائز ہے؟
جواب
اس طرح اب معاملہ جائز نہیں، روپیہ دیتے وقت جو معاملہ کیا تھا اس کی پابندی لازم ہے یا جس قدر رو پیہ دیا تھا، معاملہ فسخ کر کے وہ روپیہ واپس کر دیا جائے۔ کذافی الدر المختار۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔