مبیع نہ دینے کی صورت میں بیع سلم کا حکم
سوال
ایک شخص نے تجارت کے لئے پچاس روپیہ بایں طریق ایک دوسرے شخص سے لئے کہ لینے کے دن سے چار ماہ بعد متعین تاریخ کو ان پچاس روپیوں کے بالعوض دو من گھی ادا کرے گا، اگر گھی نہ ہو سکا تو جتنی رقم بدن مروجہ کے طریق کے مطابق ہوگی، اس کو تاریخ متعین پر ادا کر دے گا، اور آج کل کی بدن مروجہ کی صورت بنیوں کے یہاں یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی بدن پر روپیہ لینے والا شخص جنس مقرر کو وقت پر ادا نہیں کرتا، تو ایام جنس معہودہ کے ادا کرنے کے مقرر ہوتے ہیں، ان سے جو دن ایسا ہو کہ سبھی جنس معہودہ گراں فروخت ہو تو اس نرخ کے حساب سے دام کاٹتے…
جواب
یہ معاملہ شرعاً نا جائز ہے اس روپیہ کے عوض اس نرخ سے فلاں تاریخ کو گھی دیدونگا، تو درست ہے لیکن گھی نہ دینے کی صورت میں بدنی مروجہ کے طریق پر رقم کی ادائیگی کو شرط قرار دینا مفسد ہے، اور بیع ان عقود میں سے ہے جو کہ شرط فاسد سے فاسد ہو جاتی ہے، گھی کے ادانہ کر سکنے کی صورت میں اصلی رقم کی واپسی بلاکمی بیشی لازم ہے، کمی بیشی نا جائز ہے، اور اس پر سود بالکل ہی حرام ہے ”ولا يجوز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔