الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع سلم

سوال

کوئی شخص بالکل غریب ہے، کھانے کو کچھ نہیں اس کو دس روپیہ اس شرط پر کہ جو بھی غلہ مثلاً گندم یا مکئی ہوگی وہ کٹنے پر دوسیر یا تین سیر کے لونگا، مثلاً بازار میں بھاؤ ۱ سیر کا نکلا تو اب اس کو حسب وعدہ تین سیر کے غلہ لینا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ طے شدہ معاملہ ہے یا سود ہو جائے گا؟

جواب

یہ بیع سلم ہے جو غلہ دینا طے پائے اس کی حفاظت اور نرخ وغیرہ اس طرح مقرر کر لیا جائے کہ نزاع کا اندیشہ نہ رہے، پھر وقت پر بازاری نرخ کچھ بھی ہو اس کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ جو نرخ طے کیا گیا ہے، اسی نرخ سے دینا ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو