بیع واپسی کی شرط پر
سوال
میں نے اپنی ایک شدید اور فوری ضرورت کیلئے اپنے ایک مخلص دوست مسمی زید سے ۷۰۰۰ رہزار روپیہ قرض لئے اور اس رقم کے عوض دس مربعہ زمین زید مذکور کے ہاتھ فروخت کر دی، بیع کے وقت مسجد میں امام مسجد کے رو بروزید نے میرے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ جب تمہارے پاس رقم مہیا ہو جائے گی، تو میں زمین تم کو واپس کر دونگا، گویا دس مربعہ زمین سات ہزار روپے کے عوض اسی شرط اور معاہدے پر زید مذکور کے ہاتھ فروخت کردی یہ تمام ستره مربعہ زمین میرے ہی قبضہ میں رہی اور اس پر مختلف اوقات میں فصل کی کاشت کرتا رہا اور کبھی کبھی زید مذکور کو فصلا نہ…
جواب
بیچ میں یہ ہوتا ہے کہ مبیع ملک بائع سے نکل کر ملک مشتری میں چلی جاتی ہے، اور بائع کو اس میں تصرف کا حق نہیں رہتا، یہاں آپ بیچ کے بعد بھی خود ہی کاشت کرتے رہے، اور مشتری سے بٹائی یا ٹھیکہ کی بات نہیں کی گئی بس اگر آپ نے یہ شرط کر لی تھی کہ زمین میرے ہی قبضہ میں رہے گی اس میں تصرف کروں گا، تو یہ بیچ صحیح نہیں ہوئی، اس کا فسخ کرنا اصلی قیمت پر لازم ہوگا، نیز مبیع میں واپسی کی شرط…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔