الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیع میں شرط فاسد

سوال

قربانی کی کھالوں کو ایک جگہ جمع کر کے اور پھر ان کو فروخت کر کے اس کے مصارف میں رقم صرف کی جاتی ہے لیکن کھالوں کی بکری کے وقت خریدار سے یہ شرط کر لی جاتی ہے، کہ گیارہ بارہ ذی الحجہ کی جتنی کھالیں جمع ہوں گی، انہیں تمہیں اسی نرخ پر خریدنا ہوگا اسطرح بیع کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

بیع کے لئے شرطیں لگانا مفسد عقد ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو