الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شئی مسروق کی خریداری

سوال

ایک لڑکا مراہق بازار میں چلا جارہا تھا، اور اس کے پاس قیمتی شئی ہے وہ کہتا ہے کہ میں اس کو بیچتا ہوں، قیمت بہت کم بتلائی اور انتہائی کم قیمت میں وہ شئی خریدی گئی اس سے معلوم کیا کہ چوری کی تو نہیں اس نے انکار کیا لیکن قرائن سے اغلب یہی ہے کہ وہ چوری کی شئی تھی، اب اسے کیا کریں آیا صدقہ کریں یا کچھ اور کریں؟

جواب

جس شئی کے متعلق قرائن سے غالب خیال یہ ہو کہ یہ چوری کی ہے اس کو خریدنا درست نہیں ہے اگر خرید چکا ہے تو واپس کر دے، اگر مالک کا علم ہو جائے تو اسکے حوالہ کر دے پھر چاہے تو اس سے معاملہ کر کے خرید لے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو