بيع قبل القبض
سوال
زید نے عمر کو بارہ آنہ کے حساب سے مختلف قسم کے صندوق بنانے کے لئے قیمت دی اور بتلایا کہ بیس دن میں بنادینا، اب عمر صندوق بنا رہا ہے، بیس روز پورے نہیں ہوئے، زید نے عمر سے کہا کہ تم صندوق چودہ آنہ کے حساب سے بیچ کر چودہ آنہ کے حساب سے مجھ کو قیمت دینا، اب عمر نے رکھ لیا کہ میں ایک روپیہ کے حساب سے بیچ کر دو آنہ نفع حاصل کرونگا، یہ معاملہ جائز ہے؟
جواب
ناجائز ہے زید کو چاہئے کہ پہلے اپنے صندوق پر قبضہ کرے اس کے بعد اگر چاہے تو عمر کے حوالہ کر دے کہ میں نے یہ صندوق ۱۴ / آنہ میں تیرے ہاتھ فروخت کر دیا، اور عمر اس کو خریدنے پر جس قیمت پر چاہے فروخت کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔