الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرط فاسد سے بیع

سوال

ایک شخص کی زمین ہے اس میں چونہ کا بھٹہ اور گدام ہے، وہ کرایہ پر دے رکھا ہے، دوسرا شخص اس زمین کا خریدار ہے لینا چاہتا ہے، اس زمین کا بھٹہ وغیرہ توڑ کر اپنا مکان بنائے گا، کمپنی کی طرف سے قانون ہو گیا ہے، کہ بھٹہ ایک سال میں اٹھا دیئے جائیں، لہذا وہ خریدار اس بات کو کہتا ہے کہ جب تک کمپنی اجازت دے اس وقت تک کرایہ بھٹہ آپ لئے جائیں، خواہ ایک سال ہو یا دو سال ہو اس وقت تک کوئی مکان وغیرہ نہیں بناوے گا، اس صورت میں بائع کو کرایہ لینا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

جس وقت بیع کی جاوے گی، وہ زمین مشتری کی ملک میں آجائے گی، اور بائع کی ملک سے خارج ہو جائے گی، بائع کو اس سے کرایہ وصول کرنے کا حق نہیں رہے گا، اور اس شرط سے فروخت کرنا کہ زمین مشتری کے قبضہ میں فی الحال نہ جائے، بلکہ بائع بدستور اس سے نفع حاصل کرتا رہے اور بھٹہ اٹھنے کے بعد زمین پر مشتری کا قبضہ ہو یہ نا جائز ہے خواہ اس کی کچھ میعاد مقرر ہو یا نہ ہو، لہذا جواز کی صورت یہ ہے کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو