الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بيع مشاع

سوال

مسمی بشیر علی نے اپنے حصہ مکانات کا بیعنامہ بحق مسجد معروف حسن والی کیا اور زرشمن کو بحق مسجد ہبہ و بخشش کر دیا من جانب مسجد بذریعہ متولی دعوی تقسیم عدالت میں دائر کیا گیا، مدعی علیہ بسم اللہ کی طرف سے جواب دہی ہوئی، کہ یہ دستاویز بیعنامہ نہیں بلکہ ہبہ نامہ ہے، اور ہبہ نامہ مشاع جائز نہیں ہے، اس لئے دعوی تقسیم صحیح نہیں ہے، نقل بیعنامہ ونقل عرض دعوی ونقل جواب دعوی ونقل سفینہ جات ہم رشتہ سوال ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ حسب عبارت بیعنامہ منسلکہ بیع ہے، ہبہ نہیں، کیونکہ صراحت بیع اور فروخت کا لفظ مذکور ہے، نیز بیع کی تعریف” هو مبادلة المال بالمال بالتراضي بحر ج ۵، ص ۲۵۶، اس پر صادق آتی ہے، ہبہ اگر چہ مشاع جائز نہیں، لیکن بیع و شراء مشاع کی بالاتفاق جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو