الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیٹے کے نام پر مکان خریدنے سے وہ مالک نہیں ہوتا

سوال

زید نے اپنے بیٹے بکر کو اپنے روپیہ سے تجارت کرائی اور ایک مکان بھی اس کے نام خریدا لیکن زید کی نیت اس کو مالک بنانے کی نہیں تھی، بلکہ اپنی مصلحت کی بناء پر ایسا کیا تھا، اور بعد میں تجارت کو بکر سے دوسرے کے نام منتقل بھی کر دیا، اور بکر بطور ملازم کام کرتا رہا، با قاعدہ دستاویز تحریر کی گئی ہے، اب بکر کا انتقال ہو گیا اب اس کے ورثاء کو کوئی حق وراثت پہنچتا ہے یا نہیں؟

جواب

بیع کا رکن ایجاب و قبول ہے اگر زید نے اپنے لئے مکان خریدا ہے اور بکر سے اس کا اظہار کر دیا کہ میں اپنے لئے مکان خریدتا ہوں اور کسی مصلحت سے تیرے نام سے خریدتا ہوں تو اس کا مالک زید ہے پس اگر اس کے بعد زید نے ہبہ وغیرہ نہیں کیا تو اس میں بکر کے ورثہ کا حق نہیں، کیونکہ محض بکر کے نام خریدنے سے زید کی جو کہ اصل مشتری ہے ملک زائل نہیں ہوئی ہے علی ہذا القیاس جب کہ بکر بطور ملازم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو