الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کے نام پر زمین و جائیداد خریدنا

سوال

میرا بھانجہ محمد اکرام ڈھائی سال کا تھا ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اور میری بہن لیکر میرے یہاں یعنی میکے چلی آئی اس کی پرورش و پرداخت میرے گھر پر ہوئی سارے اخراجات وغیرہ میرے ہی ذمہ رہے، شروع میں میرے بھانجے کے عادت واخلاق ہی گر چکے تھے لیکن میں ان کے حق میں دعائیں کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ میرے بھانجے کو راہ راست پر لگا دے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، چنانچہ میرا بھانجہ جب تقریباً ۲۰ رسال کا ہوا تو میں ۴۸عہ کو حج بیت اللہ گیا اور جانے سے پہلے سارا اثاثہ ان کے سپرد کر دیا اور کچھ روپیہ نقدی اور…

جواب

جب کہ آپ نے بھانجے کو اپنا کاروبار سپرد کیا اور صاف لفظوں میں کہہ دیا یہ سب میرا ہے تو وہ سب کاروبار اس سے حاصل ہونے والا روپیہ اور اس سے خریدی ہوئی جائیداد خواہ کسی کے نام سے خریدی گئی ہو وہ سب آپ کی ملک ہے، نہ بھانجہ کی ملک ہے نہ اس کی بیوی کی ہے البتہ جو مکان آپ نے جس کے لئے لکھ دیا اور قبضہ کرا دیا وہ اس کا ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو