الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کتاب کا مسودہ جس قیمت پر چاہے مصنف فروخت کرے پھر چھپنے کے بعد جو شخص خریدے اس کو اختیار ہے جتنی قیمت پر چاہے فروخت کرے

سوال

عمرو زید سے کہتا ہے کہ کتاب متنازع فیہ کا حق طباعت مجھ کو دیا جائے، اس لئے کہ یہ کتاب میری وجہ سے چھپی ہے، اگر میں رقم نہ لگا تا تو کتاب طبع نہیں ہوتی زید اس کا انکار کرتا ہے، اور کہتا ہے میں نے آپ کے ساتھ معاملہ صرف پہلی طباعت کیلئے کیا تھا، آئندہ کیلئے وعدہ نہیں تھا، یہ ذہن میں رہے کہ آئندہ کیلئے وعدہ کا ہونا عمرو کو مسلم ہے، لہذا میں آئندہ کیلئے آپ کو اپنی طباعت نہیں دے سکتا، آپ فیصلہ فرمائیں، کہ از روئے شرع کیا حکم ہے؟

جواب

اصل مسودہ کی قیمت جو بھی چاہے تجویز کر دے کیونکہ وہ اس کی ملک ہے، اور خریدار اسے جس قیمت پر معاملہ بنے خرید لے لیکن کتاب طبع ہو کر جب بازار میں آگئی تو جو شخص بھی اس کا نسخہ خریدے وہ خرید کر اس کو طبع کر سکتا ہے، اصل مصنف کو یا کسی اور کو منع کرنے کا حق نہیں، حق طبع مال متقوم نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو