قبر پر پھول وغیرہ ڈالنا
سوال
جب دین مکمل ہے تو ہر چیز کا حکم اور نہی موجود ہوگی، خصوصاً جبکہ ان امور کو مستحب سمجھ کر کیا جاتا ہو، پھر دیوبندی حضرات کیوں نہیں کرتے، اور کیوں منع کرتے ہیں، جبکہ مخالفت کی صریح دلیل نہیں اور حنفیہ کے یہاں مفہوم مخالف کا اعتبار بھی نہیں، دیو بندی حضرات بھی مفہوم مخالف کا اعتبار کر کے امر مستحب پھول، مالا، دعاء ثانیہ وغیرہ سے منع کرتے ہیں؟
جواب
میت اور قبر سے متعلق فرائض، واجبات سنن، مستحبات سب احکام کتب فقہ میں مذکور ہیں، جو کہ کتاب، سنت، اجماع، قیاس سے ماخوذ ہیں، اگر یہ پھول وغیرہ اور دعاء ثانیہ دین کی لازمی چیزیں ہوتیں تو ان کا بھی ثبوت ہوتا، مدعی کے لئے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، منکر کے لئے عدم ثبوت کافی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔