الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر کی مٹی کھانا

سوال

ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ بزرگوں کی قبر کی مٹی یا پختہ قبر سے قلیل چونہ چاٹ لینا درست ہے کہ اس میں فائدہ مرتب ہوتا، جیسے کہ مولانا عبدالحق صاحب نے اپنے فتاوی میں نصاب الاحتساب و خزینۃ الروايات و مجمع البرکات سے پان میں چونہ کھانے کو مفید تحریر فرمایا ہے یا مطلقاً قدر قلیل مٹی کو کھا لینا درست بلا کراہت لکھا ہے، لہذا عرض ہے کہ مدلل جواب سے اطلاع دیں تا کہ عوام اس گمراہی سے احتراز کریں؟

جواب

اس سے معلوم ہوا کہ طین مکہ معظمہ اور طین غیر مکہ معظمہ ہر دو مکروہ ہیں اور کراہت ہر دونوں میں متحد ہے اور کراہت حدیث شریف سے ثابت ہے ”اكل الطين مكروه الى قوله وكراهية اكله لالحرمته بل لتهييج الداء وعن المبارک کان ابن ابی لیلی يرد الجارية من اكل الطين وسئل ابو القاسم عمن اكل الطين قال ليس ذلك من عمل العقلاء كذافي الحاوی للفتاوى“۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو