قبور کا چڑھاوا
سوال
چڑھاوے کی اشیاء و ما اهل بہ لغیر الله کے تحت علماء حرام قطعی فرماتے ہیں، بدعتی لوگ اس آیت سے صرف اس ذبیحہ کو مراد لیتے ہیں، جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور بظاہر صحیح بھی یہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ مفسرین نے اس آیت میں صرف ذبح حیوانات ہی کو ذکر کیا ہے، مفصل مدلل جواب مرحمت ہو کہ شفاء میسر ہو۔
جواب
مفسرین نے و ما اهل بہ لغیر الله کے ذیل میں چڑھاوے کو بھی ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر فتح العزیز پاره الم ص ۶۱۵ / وتفسیر احمدی اور فقہاء کے کلام میں مستقل چڑھاوے کی حرمت موجود ہے، در مختار طحطاوی فتاوی عالمگیری بحر الرائق، وغیرہ سب کتب میں اس کو بصراحت لکھا ہے، ”واعلم ان النذر الذى يقع للاموات من اكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها الى ضرائح الاولياء الكرام…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔