محرم ربیع الاول ربیع الثانی وغیرہ میں وعظ کا خصوصی اہتمام
سوال
یہاں پر اکثر مساجد میں محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تاریخ تک اور ربیع الاول کی پہلی سے بارہویں تاریخ تک و ربیع الثانی کی پہلی تاریخ سے گیارہویں تک اور ستائیسویں رجب کی اور پندرہویں شعبان کی، اور ستائیسویں رمضان کی اور نویں ذی الحجہ کی تاریخوں میں سال بھر میں ان ایام میں رات کو بعد عشاء وعظ ہوتا ہے، ان کے علاوہ نہ کسی کو توفیق ہوتی ہے کہ وہ وعظ کہلائے اور نہ کسی واعظ کو توفیق ہوتی ہے، کہ وہ خود کہے اور ایام مذکورہ بالا میں کمی بیشی نہیں ہوتی مثلاً یہ کہ محرم میں بجائے دس روز کے بارہ روز یا آٹھ روز کرلیں، یہ نہیں…
جواب
ایام مذکورہ کی تعیین دلائل شرعیہ سے ثابت نہیں اور نہ اس کا وجود خیر القرون میں تھا، لہذا اگر ان ایام میں وعظ کو ضروری سمجھا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی وعظ میں شریک نہ ہو تو اس کو ملامت کی جاتی ہے اور وعظ کہنے اور سننے کے ثواب کو انہیں ایام کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا ہے، تو یہ بدعت سیئہ ہے۔”وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا “۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔