شب ولادت میں رات بھر جاگ کر عبادت کرنا
سوال
بعض علاقوں میں حضرت نبی کریم ﷺ کے یوم پیدائش اور شب معراج میں رات بھر مسجدوں میں گزارتے ہیں اور عبادت و دعا میں پوری رات بیدار رہتے ہیں حتی کہ جو کبھی مسجدوں کا رخ بھی نہیں کرتے وہ ان دنوں میں پورے عابد بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان راتوں میں پوری رات کی عبادت کا ثبوت قرآن کریم وحدیث سے ہے یا نہیں، نیز اس خصوصی عبادت کا حکم کیا ہے، براہین قاطعہ میں ہے کہ بخاری شریف میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے چاشت کی نماز کو بدعت قرار دیا جب لوگوں نے اجتماعی حالت میں کثرت سے ادا کرنا شروع کیا تو اس حالت میں عبادت کرنا کہیں…
جواب
یوم پیدائش یا شب پیدائش میں یا شب معراج میں بیدار رہ کر تمام رات خصوصیت سے عبادت کرنا حضرت نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام و ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں، جن راتوں میں مثلاً شب براءت وشب عید وغیرہ میں بیدار رہ کر عبادت کرنا ثابت بھی ہے ان میں بھی مسجد میں اجتماعی طور پر شب بیداری کرنے کو فقہاء نے ممنوع وبدعت قرار دیا ہے، جیسا کہ مراقی الفلاح، ص ۲۴۱ / پر تصریح ہے لہذا طریق مذکورہ کو بند…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔