مدرسہ چلانے کیلئے مجلس میلاد میں شرکت
سوال
زید نے ایک مدرسہ ایسی جگہ قائم کیا جہاں اہل بدعت ہیں مگر خود بدعات سے گریز کرتا ہے، مگر اس مصلحت کے پیش نظر کہ اگر بدعت میں شرکت نہ کی تو یہ لوگ مدرسہ میں بچے نہیں بھیجیں گے، ان کی بدعات میں شرکت کرلے تو کیسا ہے؟ بالفرض تبلیغ کی نیت سے ان کی میلاد میں شرکت کرے تو زید کا یہ فعل کیسا ہے؟ اور ایسی صورت میں زید کیا کرے؟ بعض لوگ حاجی صاحب کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ نے مصالح کے پیش نظر قیام کرنے کی اجازت دی ہے؟
جواب
زید کے لئے مصالح مدرسہ کی خاطر ان مجالس بدعت میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے یہ ایسا ہو گیا جیسا کہ باجے بجا کر لوگوں کو جمع کیا جائے، اور پھر انہیں نماز کی طرف دعوت دی جائے، اس کی اجازت نہیں، ہمارے علم میں نہیں کہ حاجی صاحب نے کسی مدرسہ کو چلانے کے لئے قیام کی اجازت دی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔