ربیع الاول کا جلوس
سوال
یوپی کے کئی شہروں میں بماہِ ربیع الاول جلوس محمدی نکلتا ہے، اس کے نکالنے میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں، کانپور وغیرہ میں دیکھا گیا ہے کہ علماء کرام بھی اس میں شرکت فرماتے ہیں، اگر اس کے جواز کی کوئی صورت ہو تو تحریر فرماویں، صورت مسئولہ میں زید کا قول درج ذیل ہے، اگر وہ منہیات شرعیہ سے خالی ہو تو کوئی شرعی قباحت نہیں، اور ایسے امور جو قباحت شرعیہ سے خالی نہ ہوں اگر دینی رجحان کے پیدا کرنے میں معاون معلوم ہوں تو ان کا اختیار کرنا اولی اور باعث اجر ہے، بکر کا قول ہے کہ یہ نا جائز اور بدعت ہے، اور دلیل میں کہتا ہے…
جواب
ایسا جلوس نکالنا فی نفسہ ثابت نہیں، قرون مشہود لہا بالخیر میں اس کا کہیں وجود نہیں، کتب فقہ اور کلام ائمہ میں کہیں پتہ نہیں اور اسکی اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ اس میں جھنڈے ہوتے ہیں، نعرے ہوتے ہیں، اور نعرے بھی وہ جو موہم شرک ہیں، بعض جگہ ننگے سر اور ننگے پیر چلتے ہیں، اخیر شب میں پھولوں کا ہار لیکر جاتے ہیں، کچھ دیر کیلئے بالکل خاموش با ادب یہ تصور لئے کھڑے ہوتے ہیں، کہ ابھی حضرت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔