نذر ونیاز اور ایصال ثواب کا کھانا اغنیاء کو
سوال
امسال رمضان المبارک میں بنیت ایصال ثواب طعام پکا کر روزه داران کی دعوت کی گئی جس میں اغنیاء صاحب نصاب حضرات بھی مدعو کئے گئے لیکن فتاوی دار العلوم میں اغنیاء کو ایصال ثواب کا کھانا جائز نہیں۔ دن جمعہ کا تھا بعد جمعہ قرآن خوانی کا اعلان ہوا قرآن پڑھا گیا، بعد مغرب دعوتی حضرات فارغ ہوئے معلوم ہوا کہ برسی کے کھانے کا نام افطاری رکھا گیا، یہ سلسلہ کئی برس چہلم کے تحت چند مکانوں پر چلتا رہا، دیگر یہ کہ ۲۷ رمضان المبارک کو ایک صاحب کا انتقال ہوا ان کے فرزند واعزاء ایک عالم صاحب کے پاس گئے، کہ رواج تیجہ کے دن بھی کھانا…
جواب
یہاں کے فتویٰ پوچھنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ فتاوی دار العلوم ان عالم کے سامنے پیش کر دیا جائے، کہ اسکے متعلق آپ کا کیا خیال ہے، اسکے بعد ممکن ہے کہ انکا مسلک واضح ہو جائے ایصال ثواب کے کھانے کی بحث رد المحتار، کتاب الجنائز میں ہے، اور شفاء العلیل مستقل اسی مسئلہ پر تصنیف ہے، الطريقة المحمدیہ میں بھی اس کو خوب بیان کیا ہے، امید ہے کہ یہ چیزیں ان عالم صاحب کی نظر میں ہونگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔