ایصال ثواب کے کھانے کا مستحق کون ہے؟
سوال
زید کا کہنا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور اللہ مرقده وحضرت حاجی امداد اللہ صاحب وحضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے فتاوی رشیدیہ اشرفیہ میں اس قسم کا فتوی دیا ہے، کہ اگر چہارم، تیجہ، چالیسواں نہ کرے بلکہ چالیس دن کے اندر کسی دن کھانا وغیرہ پکا کر کھلانا جائز ہے، اور اس کھانے کو غریب وامیر ہر کوئی کھا سکتا ہے، اور ایسا کرنا اور کھانا دونوں جائز ہے، ہاں اگر امیر اس کھانے کو کھائے تو ثواب نہیں ملیگا، البتہ جو غریب کھانے میں شامل ہیں اس کا ثواب مل جائے گا، یہاں ایک عالم دین جو کہ مظاہر علوم سہارنپور سے…
جواب
زید کا جو استدلال آپ نے نقل کیا ہے اس میں کسی ایک بھی حدیث کا حوالہ نہیں، وہ حدیث کہاں ہے، جس سے زید نے ثبوت دیا ہے، اس سے لکھوائیے پہلے بھی ہم نے یہی پوچھا اور حوالہ طلب کیا تھا، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی و حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابیں بدعات کی تردید میں چھپی ہوئی ہیں، وہ کسی بھی بدعت کو جائز نہیں فرماتے، امداد الفتاوی آٹھ نو جلدوں میں ہے، فتاوی رشیدیہ تین حصوں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔