الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اطعام الميت

سوال

تعین دن یا بلاتعین کے رشتہ داروں وعام لوگوں کا کھانا مردہ کیلئے ثواب کی نیت سے کرتے ہیں، اگر کسی کو کھانا نہ کھلایا جائے، تو وہ برا مانتا ہے، مگر ایک عالم صاحب کے قول کے مطابق یہ کھانا فقط غرباء کیلئے ہے اگر وسعت ہے، امیر کو کھلانے سے ثواب نہ ہوگا، مزید یہ کہ یوں ثواب کی نیت کے بجائے مردہ پر جو فرائض رہ گئے ہیں، ان میں سے حتی الوسع کسی کی نیت کر کے فقط غرباء کو غلہ یا پکا ہوا کھانا کھلایا جائے، یا پیسے دیئے جائیں، تاکہ مروجہ رخ بدلکر ایک صحیح نیک عمل ہو اور فرض کی ادائیگی ہو سکے اس میں مردہ کا زیادہ فائدہ ہے کیا…

جواب

ایصال ثواب کے لئے اگر کچھ صدقہ دیا جائے تو وہ غرباء کو دیا جائے، رشتہ داروں کو تقریب کی صورت میں جمع کرنا اور کھلانا غلط طریقہ ہے، یہ صورت خیر القرون سے ثابت نہیں، عامۃً یہ ناموری اور فخر کے لئے کیا جاتا ہے، ایسے کھانے کو حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے، عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبّاسُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِئِينَ اَنْ يَّؤكل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو