میت کو بعینہ صدقہ نہیں پہنچتا بلکہ ثواب پہنچتا ہے
سوال
حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے اپنے وعظ (طریق القلندر) میں فرمایا جو حضرات پھول مالا چڑھاتے ہیں دو حال سے خالی نہیں، میت کو پہنچتا ہے یا نہیں، اگر نہیں پہنچتا ہے تو فعل عبث ہوگا، اور اگر پہنچتا ہے تو ظاہر ہے جنت کے پھول کے مقابلہ میں جو شیخ کو حاصل ہے تمہارے یہ دنیا کے پھول سور روپیہ تولہ کے عطر کے مقابلہ میں چار آنہ تولہ کا مہکتا ہوا عطر ہے، تو قبر پر پھول چڑھانا ایسا ہوا جیسا کہ سوروپیہ کے عطر سونگھنے والے کی ناک میں چار آنہ والا عطر لگا دینا، تو پھول چڑھا کر حضرت کی روح کو تکلیف دی، اس کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ…
جواب
جواب ظاہر ہے کہ ہمارا عقیدہ ہی نہیں کہ یہ صدقہ بعینہ ان کے پاس پہنچتا ہے، بلکہ عقیدہ یہ ہے کہ اس کا ثواب نعماء جنت کی شکل میں ان کے پاس پہنچتا ہے، ہاں جو وہاں جا کر بھی اُرد کی پھریری دال سوڈا واٹر وغیرہ طلب کریں، اور اپنی طبعی مرغوبہ چیزوں پر فاتحہ کی وصیت کر جائیں، ان پر ضرور یہ اشکال وارد ہے کہ شاید ان کے نزدیک یہ چیزیں پہنچتی ہیں، اور اس دنیا کی طبیعت مزاج وخواہش کو لے کر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔