الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہر نماز کے بعد ذکر بالجہر کا التزام

سوال

بعد نماز فرض تمام جماعت کا مل کر آواز ایک کر کے تین مرتبہ لا الہ الا الله بلند آواز کر کے کہنا، پھر محمد رسول اللہ کہنا باوجود اس کے کہ مسبوق اور دوسرے نمازی نماز پڑھ رہے ہوں، ان کی نماز میں حرج ہو رہا ہے، اس کو ضروری سمجھنا اور جو کوئی نہ پڑھے اس کو بہت برا جاننا اور اس کو قابل ملامت جاننا یہاں کا رواج ہے یہ کیسا ہے کیا اس کو ضروری کرنا چاہئے، یا نمازی نماز پڑھ رہے ہوں تو ترک کر دیں؟

جواب

کلمہ شریف کا ذکر بہت مبارک چیز ہے لیکن اس طرح کرنا چاہئے کہ جس سے کسی نمازی کی نماز میں تشویش نہ ہو، ورنہ پھر بلند آواز سے کرنا ممنوع ہوگا، کذا فی سباحة الفكر في الجهر بالذکر۔ نیز بعد نماز اس پر مداومت کرنا اور تارک پر ملامت کرنا جو کہ اصرار کی حد میں داخل ہے، نا جائز ہے”الاصرار على المندوب يبلغه الى حد الكراهة اه“ سعاية۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو