نافرمانوں کا حشر
سوال
جو لوگ شریعت پر مطلقا عمل نہیں کرتے ان کا کیا حشر ہوگا؟ بخشش ہوگی یا نہیں؟ جبکہ روز بروز اس کی نافرمانی کرنے سے اسکا قلب سیاہ ہوتا جاتا ہے، تو ایمان کیا باقی رہے گا، نیز جو لوگ علی الاعلان کبائر میں مبتلا ہوں اور دین کی باتوں کا مذاق بھی اڑاتے ہوں تو ان کا کیا حال ہوگا، اور کبائر میں کھلے عام مبتلا ہوں مگر ان کو اس پر ندامت بھی ہو تو ان کا کیا حال ہوگا؟
جواب
سخت سزا کے مستحق ہونے کے باوجود حق تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرمادے تو کوئی مانع نہیں۔” يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء”، اور جس کو ندامت ہو جائے جو کہ توبہ کی اصل ہے، تو یہ بھی سبب مغفرت ہے۔” انی لغفار لمن تاب،“
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔