الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مرتکب قتل عمد کی مغفرت و خودکشی

سوال

(۱) قتل عمد کے مرتکب کی مغفرت ممکن ہے کہ نہیں اگر ہے تو بعد العذاب یا قبل العذاب؟ کوئی ایسی شکل ہے کہ عذاب سے کلیہ بری ہو جائے اولیاء مقتول کی معافی سے یا مقتول کے ایصال ثواب وغیرہ کرنے سے جو شکل ہو تحریر فرماویں۔ (۲) خودکشی کے متعلق کیا حکم ہے اس میں بھی کوئی شکل ہے کہ عذاب سے بچ جائے جرم کے بعد توبہ کرنے سے امید مغفرت ہے مگر یہاں تو اس کا موقع ہی نہیں؟

جواب

(۱) ہر مرتکب کبیرہ کی مغفرت ممکن ہے، اگر شرائط متحقق ہوں، یا قتل عمد کا قصاص دے ورنہ اولیاء سے صلح کرے معافی چاہے، مقتول کو ایصال ثواب کرے جس قدر بھی ممکن ہو مقتول کے ساتھ خیر خواہی کرے اور اس کو نفع پہنچائے کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب حق کو راضی کر کے اس قاتل کی سزا کو بالکل ہی معاف فرما دیں، ورنہ تخفیف تو ضرور ہی ہو جائیگی، اور پھر بقیہ سزا کے بعد چھٹکارا ہو جائے گا، غرض…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو