کیا عذاب قبر فاسق کو بھی ہوگا
سوال
” وعن حذيفة قال قال انما النفاق كان على عهد رسول الله فاما اليوم فانما هو الكفر او الايمان (مشکوۃ شریف ص: ۱۸) روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت کی نظر میں افراد انسانی کی تقسیم تین حصوں میں کی جاسکتی ہے، اگر الوہیت اور رسالت محمد ﷺ کو تصدیق کرنے والا ہو تو مسلمان ہے، اور اگر سب کا انکار کرتا ہو خدا کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہو تو کافر ہے، اور اگر ظاہرا مذکورہ چیزوں پر ایمان رکھنے کا زبانی دعوی کرتا ہو لیکن باطنی طور پر ان کا منکر ہو تو وہ منافق ہے۔
جواب
مومن خواہ مطیع ہو یا فاسق ہو نکیرین کے سوال کے جواب میں اقرار توحید ورسالت و دین کریگا، پھر جن اعمال پر عذاب قبر تجویز ہے، جیسے نمیمہ اور عدم اجتناب عن البول وغیرہ، ان کی وجہ سے ان پر عذاب بھی ہوگا، پھر صدقہ جاریہ یا ولد صالح کی دعا یا علم نافع کی وجہ سے یا کسی کی شفاعت و ثواب رسانی سے یا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا عذاب کم یا ختم ہو جائے گا، اور کافر پر کفر کی وجہ سے جو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔